فریقین نے آئندہ ہفتے تجارتی مذاکرات مکمل کرنے پر اعتماد کا اظہار کیا
اسلام آباد پاکستان اور امریکہ جاری تجارتی مذاکرات کے اختتام کی راہ پر گامزن ہیں اور دونوں ممالک ترجیحی تجارتی معاہدے (پی ٹی اے) پر سرگرمی سے غور کر رہے ہیں جس کا مقصد باہمی منڈی تک رسائی کو فروغ دینا اور دوطرفہ تجارت کی حوصلہ افزائی کرنا ہے۔
وزیر خزانہ محمد اورنگ زیب نے منگل کے روز امریکی وزیر تجارت ہاورڈ لوٹنک کے ساتھ ورچوئل میٹنگ کی جس میں ٹیرف انتظامات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
دونوں فریقین نے جاری مذاکرات پر اطمینان کا اظہار کیا اور انہیں اگلے ہفتے مکمل کرنے کا عزم ظاہر کیا۔ اس بات کا بھی فیصلہ کیا گیا کہ تجارتی معاہدے کو آگے بڑھاتے ہوئے اسٹریٹجک اور سرمایہ کاری کے مفادات پر مبنی شراکت داری طے کی جائے گی جس میں باہمی دلچسپی کے شعبوں کا احاطہ کیا جائے گا۔ فریقین نے تجارتی مذاکرات کو جلد از جلد مکمل کرنے پر اعتماد کا اظہار کیا۔
فیلڈ مارشل عاصم منیر کے حالیہ دورہ امریکہ کے بعد دونوں ممالک تجارتی مذاکرات کو حتمی شکل دے رہے ہیں۔ پی ٹی اے یا دوطرفہ تجارتی معاہدے (بی ٹی اے) کو حتمی شکل دینے کے طریقے تلاش کیے جا رہے ہیں۔
واشنگٹن نے ان ممالک کے ساتھ بی ٹی ٹی کا انتخاب کیا ہے جہاں تجارتی خسارہ سالانہ اربوں ڈالر تک پہنچ جاتا ہے۔ امریکا پاکستان کو کپاس اور سویابین کی برآمدات پر حوصلہ افزا ٹیرف وصول کرنے کے بعد ٹیکسٹائل کی برآمدات کو 10 فیصد ٹیرف کے زمرے میں رکھ کر پاکستان کی حمایت کرسکتا ہے۔ سرکاری ذرائع نے بتایا کہ دونوں ممالک ورلڈ ٹریڈ آرگنائزیشن (ڈبلیو ٹی او) کی شرائط کے مطابق مراعات کی تلاش کر رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ امریکی کمپنیوں نے پاکستان میں 970 ریسرچ اینڈ ڈیولپمنٹ سینٹرز قائم کیے ہیں۔ ہماری تاریخ کے اس موڑ پر ایک اور موقع سامنے آیا ہے جہاں مذاکرات کاروں کو پاکستان کے حق میں زیادہ سے زیادہ فوائد حاصل کرنے کے لئے طاقت کے ساتھ بات چیت کرنی چاہئے۔
انہوں نے کہا کہ ماضی میں جب سابق حکمرانوں جنرل پرویز مشرف اور وزیر اعظم شوکت عزیز کے دور میں دونوں فریقوں کے درمیان آر او زیڈ ز پر مذاکرات ہوئے تو وہ ناکام ثابت ہوئے۔ سرکاری بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ اس بات چیت میں تجارت، سرمایہ کاری اور اقتصادی تعلقات کو مضبوط بنانے پر توجہ مرکوز کی گئی اور تکنیکی سطح پر تجارت سے متعلق بات چیت اگلے ہفتے اختتام پذیر ہوگی۔
دوطرفہ تجارت پاکستان کے حق میں ہے کیونکہ اس کی برآمدات 5.1 ارب ڈالر کے لگ بھگ ہیں جبکہ امریکا سے درآمدات 2.1 ارب ڈالر ہیں لہٰذا تجارت پاکستان کے لیے 3.1 ارب ڈالر سرپلس ہے۔
دوطرفہ تجارتی معاہدے کے بارے میں بعض حکام کا کہنا ہے کہ امریکہ ان لوگوں کے ساتھ مذاکرات کر رہا ہے جن کے ساتھ اس کا خسارہ بہت زیادہ ہے، جو اربوں ڈالر تک ہے۔ تاہم، پاکستان کے معاملے میں، ٹرمپ انتظامیہ دستیاب فریم ورک کے اندر مارکیٹ تک رسائی کو بڑھانے کے معاملے میں حوصلہ افزائی کرنے کے امکانات تلاش کر رہی ہے.
مثال کے طور پر پاکستان امریکہ سے کپاس اور سویابین درآمد کر رہا ہے اور اس کے ٹیرف کو خاص طور پر حال ہی میں نافذ کردہ نیشنل ٹیرف پالیسی کے تناظر میں معقول بنایا جا سکتا ہے، جسے آئندہ 24 گھنٹوں میں بجٹ 2025-26 کے ساتھ منظور کیا جانا تھا۔
باہمی بنیادوں پر امریکہ پاکستان کے ٹیکسٹائل سیکٹر کی سالانہ بنیادوں پر 2 سے 3 ارب ڈالر کی حوصلہ افزائی کر سکتا ہے۔
سرکاری ذرائع کا کہنا ہے کہ مختلف آپشنز زیر غور ہیں اور دونوں ممالک باہمی ٹیرف مراعات کو حتمی شکل دینے کے لیے تجاویز تیار کرنے کی جانب بڑھ رہے ہیں۔






