30 جون کو پنجاب کے شہر شیخوپورہ میں لیسکو کے ایک دفتر سے ایک معمر خاتون کو نکالتے ہوئے لیسکو کا ایک محافظ اسے بازو سے زمین پر گھسیٹ رہا ہے۔ – سکرین گریب
شیخوپورہ پولیس نے لاہور الیکٹرک سپلائی کمپنی (لیسکو) کے ایک سیکیورٹی گارڈ کو گرفتار کرلیا جب کہ پاور ڈویژن نے ایک بزرگ گاہک کو ڈسٹری بیوشن کمپنی کے احاطے سے گھسیٹ کر باہر نکالنے پر معطل کردیا۔
یکم جولائی سے سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے اس واقعے کی فوٹیج میں دیکھا جا سکتا ہے کہ لیسکو کا ایک محافظ ایک معمر خاتون کو اس کے بازو سے کھینچ کر احاطے سے باہر نکال رہا ہے۔
پاور ڈویژن کی جانب سے جاری بیان کے مطابق بدسلوکی کا واقعہ 30 جون کو پیش آیا۔ ”سکیورٹی گارڈ کو فوری طور پر معطل کر دیا گیا [اور] ایف آئی آر درج کی گئی۔ بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ سکیورٹی گارڈ اب پولیس کی تحویل میں ہے۔
پاور ڈویژن نے متنبہ کیا کہ "قانون توڑنا اور عوام کی توہین برداشت نہیں کی جائے گی”، انہوں نے اس بات پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ اس نے گارڈ کی بدانتظامی کے خلاف سخت کارروائی کی ہے۔
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ سیکیورٹی گارڈ کو نوکری سے برخاست کرنے کے لیے کارروائی کی جا رہی ہے اور پاور ڈویژن نے انکوائری رپورٹ تین دن میں پیش کرنے کا حکم دیا ہے۔
بجلی کی فراہمی اور تقسیم کار کمپنیوں کو بھی فوری اقدامات کرنے اور تمام دفاتر کو ہدایات جاری کرنے کے احکامات بھیجے گئے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ پاور ڈویژن معمر خاتون اور دیگر صارفین سے اس شخص کے اس فعل پر معافی مانگتا ہے۔ ہم اپنے صارفین کا بہت احترام کرتے ہیں۔
شیخوپورہ پولیس نے بھی فیس بک پر ایک پوسٹ میں اس شخص کی گرفتاری کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ وائرل فوٹیج نے ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر (ڈی پی او) بلال ظفر شیخ کو واقعے کا نوٹس لینے پر مجبور کیا۔
ڈی پی او شیخ نے بتایا کہ پولیس نے ملزم کو گرفتار کرکے مقدمہ درج کرلیا ہے۔ کسی کو بھی قانون اپنے ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں ہے۔






