پاکستان اور متحدہ عرب امارات کے مشترکہ وزارتی کمیشن (جے ایم سی) کے 12 ویں اجلاس میں شرکت کے لیے نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار متحدہ عرب امارات پہنچ گئے۔
پاک متحدہ عرب امارات جے ایم سی کا 12 واں اجلاس 13 سال کے وقفے کے بعد اکتوبر 2024 میں منعقد ہو رہا ہے۔ آخری اجلاس 6 سے 7 نومبر 2013 تک اسلام آباد میں منعقد ہوا تھا۔
دفتر خارجہ کی جانب سے جاری بیان کے مطابق اسحاق ڈار 24 جون کو ہونے والے اجلاس میں پاکستانی وفد کی قیادت کریں گے۔
جے ایم سی پاکستان اور متحدہ عرب امارات کے درمیان دوطرفہ تعاون کے لئے اعلیٰ ترین ادارہ جاتی پلیٹ فارم کے طور پر کام کرتا ہے۔ آئندہ اجلاس میں دونوں برادر ممالک کے درمیان اسٹریٹجک، اقتصادی اور ترقیاتی تعاون کو مضبوط بنانے کے ایجنڈے کو آگے بڑھایا جائے گا۔
وفد میں اقتصادی امور، تجارت، توانائی، میری ٹائم افیئرز اور داخلہ سمیت اہم وزارتوں کے سیکرٹریز اور سینئر حکام شامل ہوں گے۔
متحدہ عرب امارات کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ متحدہ عرب امارات کی جانب سے نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ شیخ عبداللہ بن زاید النہیان کے علاوہ متعلقہ اماراتی اداروں کی اعلیٰ سطحکی نمائندگی بھی شرکت کرے گی۔
اجلاس میں باہمی تعاون کے مختلف شعبوں میں پیش رفت پر تبادلہ خیال کیا جائے گا اور تجارت، سرمایہ کاری، توانائی، انفراسٹرکچر کی ترقی اور آئی ٹی کے شعبوں میں تعاون کی نئی راہیں تلاش کی جائیں گی۔
اجلاس کے دوران شعبہ جاتی تعاون کو ادارہ جاتی شکل دینے کے لئے متعدد قانونی طریقوں کو حتمی شکل دیئے جانے کی توقع ہے۔
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ یہ اجلاس دونوں فریقوں کو اپنی اقتصادی ترجیحات کو ہم آہنگ کرنے اور باہمی فائدہ مند شراکت داری کے دائرہ کار کو بڑھانے کے امکانات کو کھولنے کا ایک اہم موقع فراہم کرے گا۔
اسحاق ڈار نے ایکس پر یہ بھی لکھا کہ وہ جے ایم سی اجلاس میں پاکستانی وفد کی قیادت کرنے کے لیے متحدہ عرب امارات پہنچے ہیں۔
متحدہ عرب امارات چین اور امریکہ کے بعد پاکستان کا تیسرا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار ہے، دس لاکھ سے زائد پاکستانی تارکین وطن کا گھر ہے، اور سعودی عرب کے بعد جنوبی ایشیائی ملک میں ترسیلات زر کا دوسرا سب سے بڑا ذریعہ ہے۔
متحدہ عرب امارات میں پاکستان کے سفیر فیصل ترمذی نے کہا تھا کہ مالی سال 2023-24 میں پاکستان اور متحدہ عرب امارات کے درمیان باہمی تجارت 10.9 ارب ڈالر سے تجاوز کر گئی جس میں اشیا اور خدمات بھی شامل ہیں۔
واضح رہے کہ رواں ماہ کے اوائل میں وزیراعظم شہباز شریف نے متحدہ عرب امارات کے صدر اور ابوظہبی کے حکمران شیخ محمد بن زید النہیان سے ایک روزہ دورے کے دوران ملاقات کی تھی جس میں انہوں نے دو طرفہ اور علاقائی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال کیا تھا۔
اس اعلیٰ سطحی بات چیت کا مقصد دوست ممالک کے تئیں پاکستان کے شکر گزاری کا اعادہ کرنا ہے جنہوں نے نئی دہلی کے ساتھ حالیہ تعطل کے دوران اسلام آباد کے موقف کی حمایت کی تھی۔






